نئی دہلی، 29 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سکم کے وزیر اعلی پریم سنگھ تمانگ کی قسمت ابھی الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے ان کے اس عہدے پر بنے رہنے کے لئے اپنے نااہل ٹھہرائے جانے کی باقی مدت کو معاف کرنے کی درخواست کی ہے۔27 مئی کو مقرر کئے گئے تمانگ کو اپنی تقرری کے 6 ماہ کے اندر اسمبلی کے لئے منتخب ہونے کی ضرورت ہے،اگرچہ بدعنوانی کے ایک معاملے میں مجرم پائے جانے کے بعد انہیں انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا ہے۔تمانگ 1990 کی دہائی میں خوراک وزیر رہتے ہوئے ’گائے تقسیم کی منصوبہ بندی‘ میں سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کرنے کا مجرم پائے جانے کے بعد 2017 سے 2018 کے درمیان ایک سال جیل میں رہے،وہ 10 اگست، 2018 کو جیل سے رہا ہوئے۔عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت، بدعنوانی کا سراغ رساں ایکٹ کے تحت قصوروار ٹھہرائے گئے اور جیل میں بند لوگوں قید کی مدت کے دوران اور رہائی کے 6 سال بعد تک انتخاب لڑنے سے نااہل قرار دیا جاتا ہے،اگرچہ، عوامی نمائندگی ایکٹ، 1951 کی دفعہ 11 الیکشن کمیشن کو نااہلی کی مدت کو ہٹانے یا کم کرنے کی طاقت دیتی ہے،اگر الیکشن کمیشن پریم سنگھ تمانگ پر سے پابندی ہٹانے سے انکار کرتا ہے تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا ہوگا۔وہیں الیکشن کمیشن تمانگ کی درخواست کی تحقیقات کر رہا ہے۔الیکشن کمیشن نے پہلے بھی مجرم افراد کی نااہلی کی مدت کو ہٹانے یا کم کرنے کے لئے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 11 کا استعمال کر چکا ہے۔گزشتہ سال الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو ایک حلف نامے میں مطلع کیا تھا کہ سال 1977 میں اس نے اتر پردیش کے دو ممبران اسمبلی شیام نارائن تیواری اور مترا سین یادو کو جرائم کے مجرم پائے جانے کی مدت کم کر دی تھی۔سکم میں 11 اپریل کو لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہی پولنگ ہوئی تھی۔تمانگ کے سکم کرانتی مورچہ (ایس کے ایم) نے سکم ڈیموکریٹک فرنٹ کو شکست دی، جس نے ریاست پر مسلسل 5 بارحکومت کی تھی۔ایس کے ایم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ساتھی ہے اور مرکز میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا حصہ ہے۔تمانگ کے وزیر اعلی کے طور پر تقرری کو فی الحال سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔سکم ڈیموکریٹک فرنٹ کے بمل شرما نے اس معاملے میں کورٹ میں عرضی دی ہے جس میں کہا گیا ہے، ’عوامی نمائندگی ایکٹ‘میں یہ واضح ہے کہ الیکشن کمیشن سنگین جرائم میں مجرم کسی شخص کو الیکشن لڑنے یا عوام کے نمائندے کے طور پر رہنے کے لیے نااہل ٹھہرا دیتا ہے۔اس طرح کی پابندی سے جرائم پیشہ عناصر کو عوامی عہدے پر بنے رہنے سے روکنا ضروری ہے۔